7 September 1974 | Khatm-e-Nabuwwat Ki Tareekh
7 September 1974 Ka Waqia Kya Tha? 7 ستمبر 1974 پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ کا ایک نہایت اہم دن سمجھا جاتا ہے۔ اسی روز پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے آئین میں دوسری ترمیم سے متعلق بل منظور کیا، جس کے ذریعے آئین میں ختمِ نبوت کے حوالے سے مسلمان کی آئینی تعریف شامل کی گئی۔ قومی اسمبلی نے یہ بل 130 ووٹوں سے منظور کیا اور اس وقت ایوان میں موجود تمام ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے بعد سینیٹ میں موجود 31 ارکان نے بھی اس کے حق میں ووٹ دیا۔ یہاں ایک اہم تاریخی وضاحت ضروری ہے: 7 ستمبر کو پارلیمانی منظوری ہوئی، جبکہ آئینی ترمیم کو صدر کی منظوری 17 ستمبر 1974 کو ملی اور اسے 21 ستمبر 1974 کے گزٹ میں شائع کیا گیا۔ قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں بھی دوسری آئینی ترمیم کی تاریخ 17 ستمبر 1974 درج ہے۔ Khatm-e-Nabuwwat Ka Mafhoom ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے۔ اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ و...