Ashab-e-Feel Ka Kaaba Par Hamla - Abraha Ka Anjaam

Ashab-e-Feel Ka Kaaba Par Hamla - Abraha Ka Anjaam


Ashab-e-Feel Ka Kaaba Par Hamla - Abraha Ka Anjaam

مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ ہمیشہ سے عربوں کے لیے ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ لوگ دور دور سے یہاں آتے، بیت اللہ کا طواف کرتے اور اسے اللہ کا مقدس گھر مانتے تھے۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب ایک طاقتور حکمران نے یہ ارادہ کیا کہ وہ خانہ کعبہ کو ہی ختم کر دے گا۔

اس شخص کا نام ابرہہ تھا۔

ابرہہ یمن میں حبشی اقتدار سے وابستہ ایک طاقتور حکمران تھا۔ اس نے ایک عظیم الشان عبادت گاہ تعمیر کروائی اور چاہا کہ عرب کے لوگ خانہ کعبہ کے بجائے اسی مقام کا رخ کریں۔ جب یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوا تو اس نے مکہ کی طرف لشکر کشی کا فیصلہ کیا۔

اس لشکر میں ہاتھی بھی شامل تھے، اسی وجہ سے قرآن مجید نے اس واقعے کو اصحابِ فیل یعنی ہاتھی والوں کے واقعے کے نام سے یاد کیا ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ الفیل میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو نہایت مختصر مگر انتہائی مؤثر انداز میں بیان فرمایا ہے۔


Abraha Ka Makkah Ki Taraf Safar

ابرہہ نے مکہ کی طرف پیش قدمی کے لیے ایک بڑا لشکر تیار کیا۔ اس کا مقصد صرف مکہ تک پہنچنا نہیں تھا بلکہ خانہ کعبہ کو نقصان پہنچانا تھا۔

اس زمانے میں عرب کے پاس ایسی منظم فوجی طاقت نہیں تھی جو ابرہہ کے لشکر کا مقابلہ کر سکتی۔ راستے میں بعض قبائل نے اسے روکنے کی کوشش بھی کی، لیکن وہ اس کے مقابلے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

جب ابرہہ مکہ کے قریب پہنچا تو اس کے لشکر نے اہلِ مکہ کے بہت سے اونٹ بھی قبضے میں لے لیے۔ ان میں حضرت عبدالمطلبؓ کے اونٹ بھی شامل تھے۔ روایات میں ان اونٹوں کی تعداد دو سو بیان ہوئی ہے۔


Abdul Muttalib Aur Abraha Ki Mulaqat

ابرہہ نے مکہ کے سردار حضرت عبدالمطلبؓ کو اپنے پاس بلایا۔ جب حضرت عبدالمطلبؓ اس کے سامنے پہنچے تو ابرہہ ان کی شخصیت سے متاثر ہوا اور ان کے ساتھ احترام سے پیش آیا۔

ابرہہ کو امید تھی کہ حضرت عبدالمطلبؓ اس سے خانہ کعبہ کو نقصان نہ پہنچانے کی درخواست کریں گے۔

لیکن ملاقات کے دوران حضرت عبدالمطلبؓ نے اپنے اونٹ واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔

ابرہہ کو یہ بات عجیب لگی۔ اس نے حیرت سے پوچھا کہ تم اپنے اونٹوں کی فکر کر رہے ہو، جبکہ میں تمہارے آبائی مقدس گھر کو تباہ کرنے آیا ہوں؟

حضرت عبدالمطلبؓ نے جواب دیا کہ میں اونٹوں کا مالک ہوں، جبکہ اس گھر کا ایک رب ہے جو خود اپنے گھر کی حفاظت کرے گا۔

یہ جملہ اس واقعے کا سب سے یادگار حصہ بن گیا۔

حضرت عبدالمطلبؓ واپس مکہ آئے اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ مکہ سے نکل کر پہاڑوں کی طرف چلے جائیں۔ وہ جانتے تھے کہ ظاہری طاقت کے اعتبار سے ابرہہ کے لشکر کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔

لیکن خانہ کعبہ کے بارے میں ان کا یقین مختلف تھا۔


Kaaba Ki Hifazat Ke Liye Dua

روایات کے مطابق حضرت عبدالمطلبؓ نے خانہ کعبہ کے دروازے کا حلقہ پکڑا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ اپنے مقدس گھر کو ابرہہ کے لشکر سے محفوظ فرمائے۔

مکہ کے لوگ بھی شہر سے باہر چلے گئے اور پہاڑوں پر جا کر انتظار کرنے لگے کہ اب کیا ہوتا ہے۔

میدان میں ایک طرف ایک طاقتور لشکر تھا، جس کے پاس ہتھیار، گھوڑے اور ہاتھی تھے، جبکہ دوسری طرف مکہ تقریباً خالی ہو چکا تھا۔

ظاہری طور پر ایسا لگتا تھا کہ ابرہہ کی فتح یقینی ہے۔

لیکن اصل فیصلہ ابھی ہونا باقی تھا۔


Ashab-e-Feel Ka Lashkar Kaaba Ki Taraf Barhta Hai

صبح ہوئی تو ابرہہ نے اپنے لشکر کو مکہ میں داخل ہونے کا حکم دیا۔

ہاتھی کو بھی خانہ کعبہ کی طرف بڑھایا گیا۔ روایات میں اس ہاتھی کا نام محمود بیان ہوا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ جب اسے مکہ اور خانہ کعبہ کی سمت کیا جاتا تو وہ آگے بڑھنے سے انکار کر دیتا۔

دوسری سمت کیا جاتا تو وہ چل پڑتا، مگر مکہ کی طرف رخ کرتے ہی بیٹھ جاتا۔

ابرہہ کے سپاہیوں نے اسے چلانے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ خانہ کعبہ کی طرف جانے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہ تفصیل تفسیری روایات میں بیان ہوئی ہے۔

اور پھر وہ واقعہ پیش آیا جس نے اس لشکر کی پوری طاقت کو بے معنی کر دیا۔


Allah Ne Abraha Ke Lashkar Ko Kaise Tabah Kiya?

قرآن مجید نے سورۃ الفیل میں فرمایا:

"کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟"

پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اس نے ان کے خلاف پرندوں کے جھنڈ بھیجے، جو ان پر پکی ہوئی مٹی کے کنکر پھینک رہے تھے۔

قرآن مجید کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا اور ان کے لشکر کو ایسی حالت میں کر دیا جیسے کھایا ہوا بھوسا۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی واضح یاد دہانی تھا کہ دنیاوی طاقت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔


Abraha Ke Lashkar Ka Anjaam Kya Hua?

ابرہہ جس لشکر کے ساتھ خانہ کعبہ کو گرانے کے لیے نکلا تھا، وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔

قرآن نے اس واقعے کا انجام نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا ہے: اللہ تعالیٰ نے اصحابِ فیل کے منصوبے کو ناکام بنا دیا اور ان کی طاقت کو تباہ کر دیا۔

بعد کی تفسیری روایات میں ابرہہ اور اس کے لشکر کے انجام کے بارے میں مزید تفصیلات ملتی ہیں، تاہم ان تفصیلات میں بعض جزئیات مختلف روایات سے منقول ہیں۔ اس لیے بنیادی اور یقینی بات وہی ہے جو قرآن نے بیان فرمائی: اللہ تعالیٰ نے اصحابِ فیل کو تباہ کر دیا اور خانہ کعبہ کو ان کے حملے سے محفوظ رکھا۔


Surah Al-Feel Mein Abraha Ka Waqia

قرآن مجید نے ابرہہ کا نام براہِ راست نہیں لیا بلکہ اس کے لشکر کو اصحابِ فیل یعنی ہاتھی والوں کے نام سے یاد کیا۔

سورۃ الفیل کی پانچ آیات میں پورے واقعے کا خلاصہ موجود ہے۔ اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کو ناکام کیا، ان پر پرندوں کے جھنڈ بھیجے اور ان کے لشکر کو تباہ کر دیا۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ قرآن نے اس واقعے کو صرف ایک تاریخی حادثے کے طور پر بیان نہیں کیا، بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور بیت اللہ کی حفاظت کی ایک بڑی نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے۔


Aam-ul-Feel Kise Kehte Hain?

ابرہہ کے حملے کا واقعہ عرب معاشرے میں اتنا مشہور ہوا کہ اس زمانے کو عامُ الفیل یعنی ہاتھیوں والا سال کہا جانے لگا۔

اسلامی روایات کے مطابق یہی وہ سال تھا جس میں نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی ولادت ہوئی۔ بہت سے اہلِ سیرت اور مفسرین نے نبی کریم ﷺ کی ولادت کو عام الفیل سے جوڑا ہے۔

اسی وجہ سے ابرہہ کا واقعہ صرف خانہ کعبہ پر ایک ناکام حملے کی داستان نہیں رہا بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ کے ابتدائی تاریخی پس منظر کا بھی ایک اہم حصہ بن گیا۔


Abraha Ke Waqia Se Humein Kya Sabaq Milta Hai?

ابرہہ کا واقعہ آج بھی انسان کو کئی اہم سبق دیتا ہے۔

سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ طاقت اور غرور انسان کو حقیقت سے دور کر سکتے ہیں۔ ابرہہ کے پاس ایک بڑا لشکر تھا، جنگی وسائل تھے اور اسے اپنی کامیابی کا یقین تھا، لیکن وہ اپنی طاقت کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے روک نہیں سکتی۔

تیسرا سبق یہ ہے کہ اللہ پر بھروسہ انسان کو مشکل ترین حالات میں بھی مضبوط رکھتا ہے۔ حضرت عبدالمطلبؓ کے واقعے میں یہی یقین نمایاں نظر آتا ہے کہ بیت اللہ کا حقیقی محافظ اللہ تعالیٰ ہے۔

اور سب سے بڑھ کر یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کو اپنی طاقت، دولت، عہدے اور وسائل پر تکبر نہیں کرنا چاہیے۔


Abraha Aur Kaaba Ke Hamle Ka Anjaam

ابرہہ خانہ کعبہ کو گرانے کے ارادے سے نکلا تھا، لیکن اس کا لشکر خود تباہی کا شکار ہو گیا۔

اس کے پاس ہاتھی تھے، ایک بڑا لشکر تھا اور مکہ کے مقابلے میں ظاہری طاقت بھی موجود تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے تمام منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

قرآن مجید نے اس واقعے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا تاکہ آنے والی نسلیں دیکھ سکیں کہ اللہ کی قدرت کے مقابلے میں ظاہری طاقت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

ابرہہ کا نام آج بھی تاریخ میں موجود ہے، مگر ایک فاتح حکمران کے طور پر نہیں۔ وہ اس شخص کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جو خانہ کعبہ کو گرانے نکلا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کو ایسا انجام دیا کہ اس کا منصوبہ ہمیشہ کے لیے عبرت بن گیا۔


Khatma

اصحابِ فیل کا واقعہ صرف ماضی کی ایک داستان نہیں بلکہ ایمان، توکل اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک عظیم سبق ہے۔ ابرہہ نے اپنی طاقت کے بل پر خانہ کعبہ کو نشانہ بنایا، لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ جس گھر کو وہ گرانے نکلا ہے، اس کا محافظ وہ ذات ہے جس کے سامنے پوری کائنات بے بس ہے۔

اسی لیے سورۃ الفیل آج بھی انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ غرور کی بنیاد کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے سامنے وہ ایک لمحے میں ختم ہو سکتی ہے۔


#AbrahaKaWaqia #AshabEFeel #KaabaParHamla


Also read Hazrat Zulqarnain aur Yajooj Majooj History

Follow us on Facebook Zube.

Comments

Popular posts from this blog

Muhammad Bin Qasim - Sindh Ki Fatah Aur Mukammal Tareekhi Waqia

Mongol Empire Itni Taqatwar Kaise Bani

Vitamin D Ki Kami Ki Nishaniyan aur Treatment