Qaum-e-Saba ka Ibratnak Waqia

Qaum-e-Saba ka Ibratnak Waqia


Qaum-e-Saba ka Ibratnak Waqia


دنیا کی تاریخ میں ایسی کئی قوموں کا ذکر ملتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خوشحالی، وسائل، قوت اور زندگی کی بے شمار سہولتیں عطا فرمائیں۔ مگر جب انہوں نے اپنے رب کی نعمتوں کو بھلا دیا، ناشکری اور سرکشی کو اختیار کیا تو یہی نعمتیں ان کے لیے آزمائش بن گئیں۔

قومِ سبا بھی انہی قوموں میں سے ایک تھی۔ یہ ایک خوشحال اور ترقی یافتہ قوم تھی جسے زرخیز زمین، پانی کی فراوانی اور تجارت کے بہترین مواقع حاصل تھے۔ ان کی زندگی میں آسائشیں موجود تھیں، مگر وقت کے ساتھ ان کے رویے میں تبدیلی آئی اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کی طرف بڑھ گئے۔

قرآنِ مجید نے قومِ سبا کے عروج اور زوال کو ایک ایسی مثال کے طور پر بیان کیا ہے جس میں ہر دور کے انسان کے لیے سبق موجود ہے۔

قومِ سبا کہاں آباد تھی؟


قومِ سبا کا تعلق قدیم یمن کے علاقے سے بیان کیا جاتا ہے۔ ان کا مرکز مارب کے علاقے میں تھا، جہاں زراعت اور تجارت نے اس قوم کو غیر معمولی خوشحالی عطا کی۔

اس علاقے میں پانی کو محفوظ رکھنے اور زرعی زمینوں تک پہنچانے کے لیے ایک عظیم بند موجود تھا جسے عام طور پر سدِّ مارب کہا جاتا ہے۔ اس نظامِ آب پاشی نے علاقے کی زمینوں کو زرخیز بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

قرآنِ مجید قومِ سبا کی خوشحالی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:

لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ
(سورۃ سبا: 15)

ترجمہ:

"یقیناً سبا کے لیے ان کے مسکن میں ایک نشانی تھی، دو باغ دائیں اور بائیں طرف۔ اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔"

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قومِ سبا کو ایک ایسا ماحول عطا کیا گیا تھا جہاں رزق اور خوشحالی کے وسائل بڑی مقدار میں موجود تھے۔

حضرت سلیمانؑ اور ملکہ سبا کا واقعہ


قومِ سبا کا ایک نہایت معروف واقعہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں پیش آیا، جسے قرآنِ مجید نے سورۃ النمل میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسی غیر معمولی نعمتیں عطا فرمائی تھیں جو عام انسانوں کو حاصل نہیں تھیں۔ آپؑ پرندوں کی بولی سمجھتے تھے اور آپ کے لشکر میں انسانوں کے ساتھ جنات اور پرندے بھی شامل تھے۔

ایک موقع پر ہدہد پرندہ آپؑ کی مجلس میں موجود نہیں تھا۔ واپس آنے کے بعد اس نے ایک ایسی خبر سنائی جس کا تعلق سبا کی سرزمین سے تھا۔

ہدہد نے بتایا کہ وہاں ایک عورت حکومت کرتی ہے اور اسے بہت کچھ عطا کیا گیا ہے، لیکن وہ اور اس کی قوم اللہ تعالیٰ کے بجائے سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔

قرآنِ مجید میں ہدہد کا بیان یوں آتا ہے:


وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّهِ

(سورۃ النمل: 24)

ترجمہ:
"میں نے اسے اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کے بجائے سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔"

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس خبر کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ ملکہ سبا کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کے لیے ایک خط روانہ فرمایا۔

قرآنِ مجید میں اس خط کے الفاظ بیان ہوئے ہیں:

إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ۝ أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ

(سورۃ النمل: 30-31)

ترجمہ:
"یہ سلیمان کی طرف سے ہے اور یہ اللہ کے نام سے شروع ہے جو نہایت مہربان، بہت رحم والا ہے۔ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور میرے پاس فرمانبردار ہو کر آؤ۔"

ملکہ سبا نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پیغام کو سنجیدگی سے لیا۔ بعد ازاں جب وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے حاضر ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں دیکھیں تو انہوں نے اللہ کے سامنے اپنی فرمانبرداری کا اظہار کیا۔

قرآن میں ان کا قول ہے:

رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

(سورۃ النمل: 44)

ترجمہ:
"اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے سامنے فرمانبردار ہوتی ہوں۔"

قومِ سبا کو ملنے والی نعمتیں


قومِ سبا کو صرف ایک خوشحال شہر ہی نہیں ملا تھا بلکہ ان کے پاس زراعت، پانی اور تجارت کے بہترین وسائل بھی موجود تھے۔

ان کے علاقے میں باغات تھے اور پانی کے انتظام کی وجہ سے زمینیں آباد تھیں۔ قرآنِ مجید میں دائیں اور بائیں جانب موجود باغات کا ذکر اسی خوشحالی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اپنے رب کا رزق کھائیں اور اس کا شکر ادا کریں۔

یہ دراصل ایک بنیادی اصول تھا: نعمت جتنی بڑی ہو، شکر کی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔

جب خوشحالی ناشکری میں بدل گئی

وقت گزرنے کے ساتھ قومِ سبا کے رویے میں تبدیلی آئی۔ قرآنِ مجید بتاتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے منہ موڑا اور اپنے لیے نقصان کا راستہ اختیار کیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَقَالُوا رَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ

(سورۃ سبا: 19)

ترجمہ:
"پھر انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہمارے سفروں کے درمیان فاصلے بڑھا دے، اور انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔"

جس قوم کو آسان سفر، زرخیز زمین اور خوشحال زندگی کی سہولتیں حاصل تھیں، وہی لوگ اپنی سہولتوں سے اکتانے لگے۔ قرآن اس رویے کو ان کے اپنے اوپر ظلم سے تعبیر کرتا ہے۔

سیلِ عَرِم اور قومِ سبا کا زوال


قومِ سبا کی سرکشی اور ناشکری کے بعد ان کی خوشحالی باقی نہ رہی۔ قرآنِ مجید بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر سیلِ عَرِم بھیجا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ
(سورۃ سبا: 16)

ترجمہ:
"پھر انہوں نے منہ موڑا تو ہم نے ان پر عَرِم کا سیلاب بھیج دیا۔"

اس سیلاب کے نتیجے میں ان کا زرعی نظام تباہ ہوا اور وہ سرسبز باغات جنہوں نے کبھی ان کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا تھا، ان کی جگہ ایسی زمین نے لے لی جس میں پہلے جیسی پیداوار باقی نہ رہی۔

قرآنِ مجید نے اس تبدیلی کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے دونوں باغات کی جگہ ایسے باغات آ گئے جن میں کڑوے پھل، جھاؤ اور کچھ بیری کے درخت رہ گئے۔

یہ صرف ایک قوم کی تباہی کا واقعہ نہیں بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو معمولی سمجھنا انسان کو زوال کی طرف لے جا سکتا ہے۔

قومِ سبا کے واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟


1. نعمتوں کا شکر ضروری ہے

قومِ سبا کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار وسائل عطا کیے تھے۔ قرآن نے انہیں اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی تلقین کی، لیکن جب انہوں نے ناشکری اختیار کی تو ان کی خوشحالی باقی نہ رہی۔

2. خوشحالی بھی ایک امتحان ہے

دولت، صحت، طاقت، کامیابی اور آسائشیں صرف سہولتیں نہیں بلکہ آزمائش بھی ہیں۔ انسان کا رویہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ نعمت ملنے کے بعد اپنے رب کو یاد رکھتا ہے یا نہیں۔

3. غرور انسان کو زوال تک پہنچا سکتا ہے

جب انسان اپنی کامیابی کو صرف اپنی قابلیت کا نتیجہ سمجھنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کو بھول جاتا ہے تو اس کے اندر تکبر پیدا ہوسکتا ہے۔

4. ہدایت ملنے پر حق قبول کرنا چاہیے

ملکہ سبا کا واقعہ اس پہلو سے بھی اہم ہے کہ انہوں نے حق واضح ہونے کے بعد اسے قبول کیا۔ انسان کے لیے اصل کامیابی یہ ہے کہ جب اس پر حق واضح ہو تو وہ اسے قبول کرنے میں دیر نہ کرے۔

5. دعوت میں حکمت کی اہمیت

حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔ اس واقعے میں دعوتِ حق، حکمت اور اللہ کی طرف بلانے کی اہمیت کا پہلو بھی موجود ہے۔

قومِ سبا: ہمارے لیے آج کا پیغام


قومِ سبا کا واقعہ صرف ماضی کی ایک داستان نہیں۔ آج بھی انسان اپنی زندگی میں بے شمار نعمتوں سے گھرا ہوا ہے۔ گھر، رزق، صحت، خاندان، علم، وقت اور امن جیسی نعمتیں اکثر ہمیں اتنی معمولی محسوس ہونے لگتی ہیں کہ ہم ان کا شکر ادا کرنا بھول جاتے ہیں۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نعمت کی اصل قدر اسے حاصل کرنے کے بعد ہوتی ہے۔ شکر صرف زبان سے "الحمدللہ" کہنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کو پہچاننا اور اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنا بھی شکر کا حصہ ہے۔

خلاصہ


قومِ سبا کی داستان قرآنِ مجید میں بیان ہونے والے ان واقعات میں سے ہے جن میں تاریخ کے ساتھ ساتھ انسان کے لیے نصیحت بھی موجود ہے۔

ایک طرف انہیں سرسبز باغات، پانی، زراعت اور خوشحالی عطا ہوئی، جبکہ دوسری طرف ناشکری کے نتیجے میں ان کی حالت بدل گئی۔ ان کا واقعہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ دنیاوی ترقی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اصل کامیابی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچاننے اور ان کا شکر ادا کرنے میں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ

(سورۃ ابراہیم: 7)

ترجمہ:

"اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔"

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں کو پہچاننے، ان کا شکر ادا کرنے اور قرآنِ مجید میں بیان کیے گئے واقعات سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 

Also read. Anar Khane Ke Fayde

Follow us on Facebook Zube 

 

Comments

Popular posts from this blog

Muhammad Bin Qasim - Sindh Ki Fatah Aur Mukammal Tareekhi Waqia

Mongol Empire Itni Taqatwar Kaise Bani

Vitamin D Ki Kami Ki Nishaniyan aur Treatment