Malika Bilqees Kaun Thi?
Malika Bilqees Kaun Thi?
ملکہ بلقیس کو اسلامی روایات میں سبا کی ملکہ کے نام سے شہرت حاصل ہے۔ قرآن مجید میں ان کا ذاتی نام "بلقیس" بیان نہیں ہوا، بلکہ سورۃ النمل میں سبا کی ایک ایسی حکمران عورت کا ذکر ملتا ہے جس کے پاس ایک عظیم تخت تھا اور جس کی قوم سورج کو سجدہ کرتی تھی۔
ان کا واقعہ حضرت سلیمانؑ کے ساتھ پیش آنے والے ان واقعات میں شامل ہے جن میں ایک طرف حکومت، دولت اور دنیاوی طاقت نظر آتی ہے، جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت سامنے آتی ہے۔
اس قصے کی خاص بات یہ ہے کہ ملکہ سبا نے اپنی طاقت کے باوجود جلد بازی سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے مشورہ کیا، حالات کو سمجھنے کی کوشش کی اور آخرکار جب حق ان پر واضح ہوا تو اسے قبول کرنے میں تکبر سے کام نہیں لیا۔
قرآن مجید نے اس واقعے کو سورۃ النمل میں بیان کیا ہے۔ البتہ "بلقیس" نام بعد کی تفسیری اور تاریخی روایات میں مشہور ہوا، قرآن کے الفاظ میں یہ نام موجود نہیں۔
Malika Saba Aur Qaum-e-Saba Ka Taalluq
سبا ایک قدیم قوم اور سلطنت تھی جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی موجود ہے۔ سورۃ سبا میں ان کے علاقے کی خوش حالی، باغات اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ ان کے علاقے میں دائیں اور بائیں جانب باغات تھے اور انہیں اپنے رب کا رزق کھانے اور اس کا شکر ادا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
لیکن سورۃ النمل میں سبا کا ذکر ایک دوسرے واقعے کے حوالے سے آتا ہے۔ یہاں حضرت سلیمانؑ کو ہدہد کے ذریعے خبر ملتی ہے کہ سبا میں ایک عورت حکمرانی کر رہی ہے اور اس کے پاس ایک بڑا تخت ہے۔
اسی حکمران کو بعد کی اسلامی روایات میں ملکہ بلقیس کہا گیا۔
یہ فرق ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ قرآن میں سبا کی قوم اور اس کی ملکہ کا ذکر موجود ہے، لیکن ملکہ کا نام بلقیس قرآن نے نہیں بتایا۔
Malika Bilqees Ki Saltanat Kahan Thi?
سبا کی قدیم سلطنت کو عموماً جنوبی عرب کے علاقے، خصوصاً موجودہ یمن سے منسوب کیا جاتا ہے۔ سبا کی تہذیب قدیم عرب کی معروف تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔
تاہم ملکہ سبا کی تاریخی شناخت کے بارے میں بہت سی روایات ملتی ہیں، مگر کسی مخصوص تاریخی شخصیت کو قطعی طور پر قرآن میں بیان کی گئی ملکہ قرار دینا محتاط تحقیق کے بغیر درست نہیں۔
اسی لیے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے دو چیزوں کو الگ رکھنا بہتر ہے: ایک قرآن کا بیان کردہ واقعہ، اور دوسری بعد کے زمانوں میں نقل ہونے والی تاریخی و تفسیری روایات۔
Hazrat Sulaimanؑ Ko Malika Saba Ki Khabar Kaise Mili?
حضرت سلیمانؑ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی غیر معمولی نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ انہی میں پرندوں کی بات سمجھنے کا علم بھی شامل تھا۔
ایک موقع پر حضرت سلیمانؑ نے پرندوں کا جائزہ لیا تو ہدہد وہاں موجود نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد ہدہد واپس آیا اور ایسی خبر لے کر پہنچا جس نے سبا کی طرف حضرت سلیمانؑ کی توجہ مبذول کر دی۔
Read about Malika Saba Aur Hazrat Sulaimanؑ Ka Waqia
ہدہد نے بتایا کہ اس نے سبا میں ایک عورت کو لوگوں پر حکمرانی کرتے دیکھا ہے۔ اسے بہت کچھ عطا کیا گیا ہے اور اس کے پاس ایک عظیم تخت موجود ہے۔
لیکن مسئلہ صرف سلطنت اور تخت کا نہیں تھا۔ ہدہد نے یہ بھی بتایا کہ وہ عورت اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کو سجدہ کرتی ہے۔
حضرت سلیمانؑ نے اس خبر کو فوراً حتمی حقیقت قرار نہیں دیا بلکہ اس کی تصدیق کا طریقہ اختیار کیا۔ انہوں نے ایک خط تیار کیا اور ہدہد کو اسے سبا تک پہنچانے کا حکم دیا۔
Hazrat Sulaimanؑ Ka Malika Saba Ke Naam Khat
جب حضرت سلیمانؑ کا خط ملکہ تک پہنچا تو انہوں نے اسے اپنے درباریوں کے سامنے پیش کیا۔
قرآن کے مطابق ملکہ نے اپنے مشیروں سے کہا کہ انہیں ایک باوقار خط موصول ہوا ہے جو حضرت سلیمانؑ کی طرف سے ہے۔ اس خط کا آغاز اللہ تعالیٰ کے نام سے ہوا اور اس میں تکبر سے بچنے اور اطاعت کے ساتھ آنے کی دعوت دی گئی۔
ملکہ نے اس معاملے کو معمولی نہیں سمجھا۔ انہوں نے اپنے درباریوں سے رائے لی۔ ان کے مشیروں نے اپنی طاقت اور جنگی صلاحیت کا اظہار کیا، لیکن ملکہ نے فوراً جنگ کا فیصلہ نہیں کیا۔
یہاں ان کے طرزِ حکومت کا ایک پہلو سامنے آتا ہے کہ وہ اہم فیصلے مشورے سے کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔
Malika Bilqees Ne Jung Ke Bajaye Kya Faisla Kiya?
ملکہ نے اپنے درباریوں کے سامنے بادشاہوں کے طرزِ عمل کا ذکر کیا کہ جب طاقتور حکمران کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں فساد اور تباہی پیدا کر سکتے ہیں۔
چنانچہ انہوں نے فوری جنگ کے بجائے پہلے معاملے کی نوعیت سمجھنے کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے حضرت سلیمانؑ کی طرف ایک تحفہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ مقصد یہ جاننا تھا کہ سامنے والا حکمران دنیاوی اقتدار اور مال و دولت کا خواہش مند ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور مقصد ہے۔
حضرت سلیمانؑ نے تحفہ قبول نہیں کیا۔ ان کا جواب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ عطا کیا ہے، وہ اس مال سے بہتر ہے جو ان کے پاس بھیجا گیا ہے۔
اس مرحلے پر ملکہ کے سامنے یہ بات واضح ہونے لگی کہ یہ معاملہ محض دو بادشاہوں کے درمیان سیاسی طاقت کا مقابلہ نہیں۔
Hazrat Sulaimanؑ Ke Darbar Mein Malika Saba Ka Takht
اس واقعے کا سب سے حیرت انگیز مرحلہ ملکہ کے تخت سے متعلق ہے۔
حضرت سلیمانؑ نے اپنے دربار میں موجود لوگوں سے پوچھا کہ کون اس ملکہ کا تخت ان کے پاس لا سکتا ہے۔
ایک طاقتور جن نے کہا کہ وہ اسے مجلس ختم ہونے سے پہلے لے آئے گا۔ اس کے بعد ایک ایسے شخص نے، جس کے پاس کتاب کا علم تھا، کہا کہ وہ اسے پلک جھپکنے سے پہلے حضرت سلیمانؑ کے سامنے حاضر کر سکتا ہے۔
پھر قرآن بتاتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے تخت کو اپنے سامنے موجود پایا۔
لیکن یہاں بھی انہوں نے اپنی طاقت کا اظہار کرنے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ کا فضل قرار دیا اور فرمایا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔
یہ واقعہ حضرت سلیمانؑ کے کردار کا ایک اہم پہلو سامنے لاتا ہے: غیر معمولی اقتدار اور نعمت ملنے کے باوجود انہوں نے اسے اپنی ذاتی طاقت کا نتیجہ قرار نہیں دیا۔
Malika Bilqees Ke Takht Ka Imtihan
ملکہ کے آنے سے پہلے حضرت سلیمانؑ نے حکم دیا کہ اس کے تخت کی کچھ صورت بدل دی جائے۔
مقصد یہ دیکھنا تھا کہ جب ملکہ اسے دیکھے گی تو کیا وہ اسے پہچان پائے گی۔
جب ملکہ وہاں پہنچیں تو ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا تخت ایسا ہی ہے؟
انہوں نے انتہائی محتاط انداز میں جواب دیا کہ یہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہی تخت ہو۔
یہ جواب ان کے مشاہدے اور معاملہ فہمی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے نہ جلدی میں اسے اپنا تخت قرار دیا اور نہ بغیر غور کیے انکار کیا۔
Sheeshe Ke Mahal Ka Waqia
اس کے بعد ملکہ کو ایک محل میں داخل ہونے کے لیے کہا گیا۔
جب انہوں نے اس کے فرش کو دیکھا تو انہیں محسوس ہوا کہ سامنے پانی موجود ہے۔ انہوں نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے تاکہ پانی میں داخل نہ ہوں۔
حضرت سلیمانؑ نے بتایا کہ یہ پانی نہیں بلکہ شیشے سے بنا ہوا صاف اور ہموار فرش ہے۔ قرآن اس تعمیر کو شیشے کے محل کے طور پر بیان کرتا ہے۔
یہ منظر ملکہ کے لیے ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔ اس سے انہیں حضرت سلیمانؑ کو حاصل اللہ تعالیٰ کی عطاؤں اور اپنی سابقہ سوچ کے درمیان فرق محسوس ہوا۔
یہاں قصے کا اختتام صرف ایک حیرت انگیز محل دیکھنے پر نہیں ہوتا بلکہ ملکہ کے اندر ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔
Malika Bilqees Ne Allah Ke Samne Kya Iqrar Kiya?
آخرکار ملکہ نے اپنی سابقہ حالت سے رجوع کیا۔
قرآن میں ان کے الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ انہوں نے اپنے رب کے سامنے اقرار کیا کہ انہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اب وہ سلیمانؑ کے ساتھ اللہ، جو تمام جہانوں کا رب ہے، کے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہیں۔
یہ پورے واقعے کا سب سے اہم مرحلہ ہے۔
ملکہ کے پاس ایک بڑی سلطنت، دولت اور عظیم تخت تھا، لیکن جب انہیں حق کی حقیقت سمجھ آئی تو انہوں نے اپنے اقتدار کو حق قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
اسی لیے ملکہ سبا کا واقعہ صرف ایک تاریخی یا حیرت انگیز داستان نہیں بلکہ ایمان، توحید اور انسان کے اپنے رب کے سامنے جھکنے کا سبق بھی دیتا ہے۔
Kya Quran Mein Malika Ka Naam Bilqees Hai?
یہ سوال بہت سے لوگوں کے ذہن میں آتا ہے۔
نہیں، قرآن مجید میں اس ملکہ کا نام بلقیس نہیں آیا۔
سورۃ النمل میں انہیں سبا کی حکمران عورت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ان کے پاس عظیم تخت تھا اور وہ اپنی قوم پر حکمرانی کرتی تھیں۔
"بلقیس" نام بعد کی اسلامی روایات اور تفسیری و تاریخی کتابوں میں مشہور ہوا۔
اس لیے زیادہ محتاط انداز یہ ہے کہ قرآن کے حوالے سے انہیں ملکہ سبا کہا جائے، جبکہ عام اسلامی روایت میں ملکہ بلقیس کہنا معروف ہے۔
Kya Malika Bilqees Ek Haqeeqi Tareekhi Shakhsiyat Thi?
سبا ایک حقیقی قدیم تہذیب اور سلطنت تھی، اور اس کے بارے میں تاریخی شواہد موجود ہیں۔ قرآن بھی سبا کی قوم اور اس کے علاقے کی خوش حالی کا ذکر کرتا ہے۔
لیکن ملکہ سبا کو کسی مخصوص تاریخی ملکہ کے ساتھ قطعی طور پر جوڑنے کے لیے اتنا واضح تاریخی ثبوت موجود نہیں جس کی بنیاد پر اس شناخت کو یقینی کہا جا سکے۔
اسی لیے اس موضوع پر غیر ضروری دعووں سے بچنا بہتر ہے۔
قرآن نے جتنا بتایا ہے، ہمیں بنیادی طور پر اسی پر اعتماد کرنا چاہیے: سبا میں ایک عورت حکمران تھی، اس کے پاس عظیم تخت تھا، وہ اور اس کی قوم سورج کو سجدہ کرتے تھے، حضرت سلیمانؑ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور آخرکار اس نے اللہ رب العالمین کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔
Qaum-e-Saba Ka Anjaam Kya Hua?
یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ ملکہ سبا کا واقعہ اور پوری قوم سبا کا بعد کا انجام ایک ہی واقعہ نہیں ہیں۔
سورۃ سبا میں اللہ تعالیٰ نے سبا کی قوم کی خوش حالی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے علاقے کے باغات کا بیان کیا ہے۔ انہیں اللہ کی نعمتوں پر شکر کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ لیکن جب انہوں نے منہ موڑا تو ان پر سیلابِ عرم آیا اور ان کی سابقہ خوش حالی تباہ ہو گئی۔
اس لیے اگر کوئی شخص ملکہ بلقیس کا واقعہ پڑھنے کے بعد قوم سبا کی مکمل تاریخ جاننا چاہتا ہے تو اسے قوم سبا کے الگ واقعے کو بھی سمجھنا چاہیے۔
Malika Bilqees Ke Waqia Se Kya Sabaq Milta Hai?
ملکہ سبا کا قصہ کئی پہلوؤں سے سبق آموز ہے۔
سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ طاقت انسان کو حق قبول کرنے سے نہیں روکنی چاہیے۔ ملکہ ایک بڑی سلطنت کی حکمران تھیں، لیکن جب حق واضح ہوا تو انہوں نے اسے قبول کیا۔
دوسرا سبق مشورے کی اہمیت ہے۔ ملکہ نے اہم معاملے میں اپنے درباریوں سے رائے لی اور فوری طور پر جذباتی فیصلہ نہیں کیا۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ ظاہری شان و شوکت ہمیشہ حقیقی کامیابی نہیں ہوتی۔ عظیم تخت اور بڑی سلطنت رکھنے کے باوجود ملکہ کے لیے اصل تبدیلی اس وقت آئی جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حقیقت کو پہچانا۔
چوتھا سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی غلطی تسلیم کرنے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ ملکہ نے آخرکار اپنے رب کے سامنے اپنے سابقہ طرزِ عمل کا اعتراف کیا۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کی اصل عزت اس کے عہدے یا دولت میں نہیں بلکہ حق کو پہچاننے اور اسے قبول کرنے میں ہے۔
Malika Bilqees Ki Kahani Ka Asal Paigham
ملکہ بلقیس کی کہانی میں تخت بھی ہے، سلطنت بھی، ایک حیرت انگیز سفر بھی اور شیشے کا محل بھی۔ لیکن ان تمام واقعات سے زیادہ اہم ان کے اندر آنے والی تبدیلی ہے۔
وہ ایک ایسی حکمران تھیں جن کے پاس دنیاوی اعتبار سے بہت کچھ موجود تھا۔ اس کے باوجود جب انہیں اللہ تعالیٰ کی توحید کی حقیقت سمجھ آئی تو انہوں نے اپنی انا اور اقتدار کو حق کے مقابلے میں کھڑا نہیں کیا۔
یہی اس قصے کا سب سے خوبصورت پہلو ہے۔
انسان کے پاس دنیا کی کتنی ہی بڑی نعمتیں کیوں نہ ہوں، اگر وہ اپنے خالق کو بھول جائے تو اس کی دولت اور طاقت اسے حقیقی کامیابی نہیں دے سکتیں۔ اور اگر حق سامنے آ جائے تو اسے قبول کرنے والا شخص اپنے ماضی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
Natija
ملکہ بلقیس، جنہیں عام طور پر ملکہ سبا کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، قرآن مجید میں بیان ہونے والے ایک اہم واقعے کی مرکزی شخصیت ہیں۔
قرآن ان کا ذاتی نام نہیں بتاتا، لیکن سبا کی ایک ایسی حکمران عورت کا ذکر کرتا ہے جس کے پاس عظیم تخت تھا اور جو اپنی قوم کے ساتھ سورج کی عبادت کرتی تھی۔
حضرت سلیمانؑ کو ہدہد کے ذریعے ان کے بارے میں خبر ملی۔ اس کے بعد خط کا معاملہ پیش آیا، ملکہ نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا، حضرت سلیمانؑ کی طرف تحفہ بھیجا اور پھر ان کے سامنے حاضر ہوئیں۔
ان کے تخت کو حضرت سلیمانؑ کے دربار میں لایا گیا اور شیشے کے محل کا واقعہ بھی پیش آیا۔ آخرکار ملکہ نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔
ملکہ سبا کا واقعہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل کامیابی صرف حکومت، دولت اور طاقت حاصل کرنے میں نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ جب حق سامنے آئے تو انسان اسے پہچانے، اپنی غلطی تسلیم کرے اور اپنے رب کے سامنے جھک جائے۔
نوٹ: قرآن مجید میں ملکہ کا نام "بلقیس" نہیں آیا؛ یہ نام بعد کی روایات میں مشہور ہوا۔ اس لیے قرآن کے حوالے سے "ملکہ سبا" کہنا زیادہ محتاط تعبیر ہے۔
#MalikaBilqees #MalikaSaba #HazratSulaiman
Also Read about Firaun Ka Wazir Haman Kaun Tha?
Follow us on Facebook Zube.

Comments
Post a Comment