Who Was Firon? The Story of Hazrat Musa (AS)

 

Who Was Firon? The Story of Hazrat Musa (AS)


Introduction to Firon

فِرعون کا ذکر قرآنِ مجید میں ایک ایسے ظالم حکمران کے طور پر ملتا ہے جس نے اپنی طاقت، حکومت اور دولت کے غرور میں نہ صرف لوگوں پر ظلم کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تکبر بھی کیا۔ اس کی کہانی صرف ایک بادشاہ اور ایک نبی کے درمیان مقابلے کی داستان نہیں، بلکہ یہ حق اور باطل، تکبر اور عاجزی، ظلم اور انصاف کے درمیان ایک واضح فرق بھی دکھاتی ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی رہنمائی اور فِرعون کو حق کی دعوت دینے کے لیے بھیجا۔ فِرعون نے اللہ کی نشانیوں کو دیکھنے کے باوجود سرکشی اختیار کی اور اپنی سلطنت کے زعم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلایا۔ قرآن مجید نے فِرعون کے انجام کو انسانوں کے لیے ایک بڑی عبرت قرار دیا ہے۔


Who Was Firon?

فِرعون کسی ایک شخص کا ذاتی نام نہیں بلکہ مصر کے حکمران کے لیے استعمال ہونے والا ایک شاہی لقب سمجھا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں جس فِرعون کا ذکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کے ساتھ آتا ہے، وہ ایک انتہائی طاقتور مگر سرکش حکمران تھا۔

قرآن بتاتا ہے کہ فِرعون نے زمین میں سرکشی اختیار کی، لوگوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا اور بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو کمزور بنا کر ان کے بیٹوں کو قتل کرواتا اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ قرآن اسے مفسدین میں شمار کرتا ہے۔

اس کی حکومت میں طاقت کا ایسا غلبہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو لوگوں پر مکمل اختیار رکھنے والا سمجھتا تھا۔ اس تکبر کی انتہا یہ تھی کہ اس نے اپنی قوم کے سامنے ایسی بات کہی جس سے اس کی خدائی کا دعویٰ ظاہر ہوتا ہے۔ سورۂ القصص میں اس کا یہ رویہ واضح طور پر بیان ہوا ہے۔


Firon's Tyranny Over Bani Israel

بنی اسرائیل اُس دور میں فِرعون کی حکومت کے زیرِ اثر تھے۔ فِرعون انہیں کمزور رکھنے کے لیے ظلم اور خوف کا سہارا لیتا تھا۔ اس نے ان کے ایک حصے کو خاص طور پر نشانہ بنایا اور ان کے نومولود بیٹوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔

اسی خطرناک دور میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو الہام فرمایا کہ بچے کو دودھ پلاؤ اور جب خوف محسوس ہو تو اسے دریا میں ڈال دو، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو اطمینان دلایا کہ وہ بچے کو دوبارہ ان کی طرف لوٹائے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بچپن اسی فِرعون کے گھر کے ماحول میں گزرا جس نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا تھا۔

یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک حیرت انگیز مثال تھی کہ جس حکمران نے بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کروانے کا حکم دیا، اسی کے محل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش ہوئی۔


The Mission of Hazrat Musa (AS)

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فِرعون کے پاس جانے کا حکم دیا۔ قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو واضح طور پر بتایا گیا کہ فِرعون سرکشی کر چکا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کا سینہ کھول دیا جائے، ان کا کام آسان کر دیا جائے اور ان کی زبان کی گرہ کھول دی جائے تاکہ لوگ ان کی بات سمجھ سکیں۔ انہوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی مددگار بنانے کی درخواست کی۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو فِرعون کے پاس جانے کا حکم دیا اور انہیں اپنی نشانیاں عطا فرمائیں۔ ان نشانیوں میں عصا اور ہاتھ کا روشن ہو جانا بھی شامل تھا۔


Firon's Reaction to the Truth

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اللہ تعالیٰ کی نشانیاں لے کر فِرعون کے سامنے آئے تو فِرعون نے حق کو قبول کرنے کے بجائے انہیں جھٹلایا۔ قرآن کے مطابق فِرعون اور اس کے ساتھیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر اور جھوٹا قرار دینے کی کوشش کی۔

فِرعون کا مسئلہ دلیل کی کمی نہیں بلکہ تکبر اور اقتدار کا غرور تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ اگر لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات مان لیں گے تو اس کی حکومت اور اس کے قائم کردہ نظام کو چیلنج درپیش ہوگا۔

اسی وجہ سے اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا ارادہ کیا اور انہیں قتل کرنے کی دھمکی بھی دی۔ قرآن میں اس کے اس رویے کا ذکر موجود ہے۔


Firon and the Magicians

فِرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نشانیوں کو لوگوں کی نظروں میں بے اثر کرنے کے لیے جادوگروں کو جمع کیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ عوام کے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو جادو ثابت کر دیا جائے۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے حق کو نمایاں کر دیا۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نشانی دیکھی تو انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ عام جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے۔ اس مرحلے پر حق کو پہچاننے والوں نے فِرعون کی دھمکیوں کے باوجود ایمان کا راستہ اختیار کیا۔

یہ واقعہ اس بات کی بڑی مثال ہے کہ سچائی سامنے آجانے کے بعد اسے پہچاننے کے لیے دل کا صاف ہونا ضروری ہے۔ طاقت اور دھمکیاں انسان کو وقتی طور پر خاموش کر سکتی ہیں، لیکن حق کو مٹا نہیں سکتیں۔


Firon's Arrogance

فِرعون کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا تکبر تھا۔ وہ اپنی حکومت اور اقتدار کو اتنا بڑا سمجھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی واضح نشانیوں کے باوجود حق ماننے پر تیار نہیں ہوا۔

سورۂ القصص میں فِرعون کے ایک ایسے بیان کا ذکر ہے جس میں اس نے اپنی قوم کے سامنے اپنے علاوہ کسی دوسرے معبود کو تسلیم نہ کرنے کی بات کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رب کے بارے میں تمسخرانہ انداز اختیار کیا۔

یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان اقتدار اور دولت کو اپنی اصل طاقت سمجھنے لگے تو تکبر اسے حقیقت سے دور لے جا سکتا ہے۔


The Believing Man From Firon's Family

فِرعون کے گھرانے میں ایک ایسا شخص بھی تھا جس نے اپنے ایمان کو چھپا رکھا تھا۔ جب فِرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس مومن شخص نے حکمت کے ساتھ اپنی قوم کو سمجھانے کی کوشش کی۔

قرآنِ مجید میں اس شخص کا ذکر سورۂ غافر میں تفصیل سے آتا ہے۔ اس نے اپنی قوم سے سوال کیا کہ کیا صرف اس وجہ سے ایک شخص کو قتل کیا جائے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، جبکہ وہ اپنے رب کی طرف سے واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے؟

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ فِرعون کے ظلم کے ماحول میں بھی ایمان رکھنے والے لوگ موجود تھے اور ہر شخص اس کے باطل نظام کا حامی نہیں تھا۔


The Exodus of Bani Israel

جب فِرعون نے مسلسل حق کو ٹھکرایا اور ظلم و سرکشی پر قائم رہا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے ساتھ نکلنے کا حکم دیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر آگے بڑھے اور فِرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کرنے لگا۔ بظاہر حالات ایسے تھے کہ بنی اسرائیل کے سامنے سمندر تھا اور پیچھے فِرعون کا لشکر، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور اہلِ ایمان کے لیے راستہ پیدا کر دیا۔

اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمندر میں راستہ بنا اور بنی اسرائیل اس میں سے گزر گئے۔ فِرعون اور اس کا لشکر بھی اسی راستے میں داخل ہوا، لیکن جب اس پر عذاب کا وقت آیا تو وہ اپنے ایمان کا اظہار کرنے لگا۔ قرآنِ مجید میں اس لمحے کا ذکر سورۂ یونس میں موجود ہے۔


The End of Firon

فِرعون نے آخری وقت میں ایمان لانے کا دعویٰ کیا، لیکن اس وقت ایمان لانا اس کے لیے فائدہ مند نہ تھا۔ قرآن بتاتا ہے کہ جب ڈوبنے نے اسے آ لیا تو اس نے بنی اسرائیل کے رب پر ایمان لانے کا اقرار کیا۔

فِرعون اور اس کے لشکر کا انجام سمندر میں ہوا۔ سورۂ القصص میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فِرعون اور اس کے لشکر کو سمندر میں پھینک دیا گیا اور ظالموں کے انجام کو عبرت کے طور پر بیان کیا گیا۔

یوں ایک ایسا حکمران جسے اپنی طاقت اور سلطنت پر بے حد غرور تھا، آخرکار اپنی طاقت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے نہ بچ سکا۔


What We Learn From Firon's Story

فِرعون کی کہانی آج بھی انسان کے لیے کئی اہم سبق رکھتی ہے۔

سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ طاقت ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ انسان کے پاس کتنی ہی دولت، اختیار یا حکومت کیوں نہ ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بے بس ہے۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ تکبر انسان کو حق قبول کرنے سے روک دیتا ہے۔ فِرعون کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں آئیں، لیکن اس نے اپنی انا اور اقتدار کو سچائی پر ترجیح دی۔

تیسرا سبق یہ ہے کہ ظلم کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ فِرعون نے بنی اسرائیل کو کمزور سمجھا، لیکن آخرکار وہی لوگ اللہ تعالیٰ کی مدد سے نجات پا گئے اور فِرعون اپنے لشکر سمیت تباہ ہوگیا۔ قرآن فِرعون کے ظلم، سرکشی اور انجام کو بار بار انسانوں کے لیے عبرت کے طور پر پیش کرتا ہے۔


Conclusion

فِرعون کا واقعہ محض ماضی کی ایک داستان نہیں بلکہ انسان کے لیے ایک زندہ سبق ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام حق کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ فِرعون ظلم، تکبر اور سرکشی کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔

فِرعون کے پاس اقتدار تھا، لشکر تھا اور دنیاوی وسائل تھے، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے سامنے بے بس ہوگیا۔ دوسری طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی مدد کا یقین تھا، اور یہی یقین آخرکار کامیابی کا ذریعہ بنا۔

قرآنِ مجید میں فِرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ اسی لیے بار بار بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان طاقت کے غرور میں مبتلا نہ ہو، ظلم سے بچے، حق کو پہچانے اور مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے۔



Follow us on Instagram Zube

Comments

Popular posts from this blog

Salahuddin Ayyubi Kaun Thy? Complete History

7 September 1974 | Khatm-e-Nabuwwat Ki Tareekh

Sher Shah Suri Kaun Thy - Complete History